آنکھیں پتھر ماریں گی
کوئی یوسفؑ ہو
ہمارے خواب زندہ کرے
اور ہمارے پیروں میں
تمہارے ہاتھوں کے کشکول
جم گئے ہوں
کوئی مصر ہو
ہمارے پیٹوں سے بندھا ہوا
ہم اپنی بھوک سے رسیاں بٹیں
اور اپنے یوسفؑ بچا کر
تمہیں بیچ آئیں
کوئی ڈھول ہو
ہمارے خواب پیٹتا ہوا
اور ہم اپنی ٹھوکروں میں
تمہارے محلوں کی چیخ و پکار روند کر
تمہارے گریبانوں سے گزر جائیں
تم گڑگڑاؤ
ایک بوند عدالت کے لیے
اور ہم تمہیں یوں جھٹک دیں
جیسے کوئی اپنے بدن سے
غلاظت جھاڑتا ہو
سدرہ سحر عمران
No comments:
Post a Comment