Sunday, 15 November 2020

قیام ہی قیام تھا رکوع کیوں نہیں ہوا

 قیام ہی قیام تھا، رکوع کیوں نہیں ہوا

پھر اس رکوع میں کہیں خشوع کیوں نہیں ہوا

وہ آفتاب ہے تو کیوں نظر میں دھند بھر گیا

وہ چاند ہے تو اب تلک طلوع کیوں نہیں ہوا

تُو عشق ہے تو کس لیے جنوں سے ماورا رہا

تُو پیار ہے تو اب تلک رجوع کیوں نہیں ہوا

معاملہ بگاڑ کر نہ ہم کبھی ڈرے، مگر

مواخذہ ابھی تلک شروع کیوں نہیں ہوا

مرے ندیم! دینِ عشق پھیلنے میں دیر کیوں

بشارتوں کا سب تلک وقوع کیوں نہیں ہوا

اک اقتباس پڑھ کے روئے ہچکیوں میں پھر کہا

ورق ورق کتاب کا شیوع کیوں نہیں ہوا


حنا عنبرین

No comments:

Post a Comment