Sunday, 4 July 2021

حجم دشمن نے گھٹانے نہ دیا مارتے وقت

 حجم دشمن نے گھٹانے نہ دیا مارتے وقت

ورنہ لے اڑتی ہمیں اس سے ہوا مارتے وقت

آگہی موت سے بھی اگلا کوئی درجہ ہے

دشمنوں نے مجھے بیدار کیا مارتے وقت

صور پھونکا تو فرشتے نے فرشتے سے کہا

نطشے کیا سوچ رہا ہو گا خدا مارتے وقت؟

وقت قاتل کو بھی تہذیب سکھا دیتا ہے

پاؤں رکھنا تھا جہاں ہاتھ رکھا مارتے وقت

اپنی آزادی پہ خوش بھی نہیں ہو سکتا میں

یہاں ہوتے ہیں پرندے بھی رہا مارتے وقت

مرنے والوں کی طبیعت میں بھی رنگینی تھی

مارنے والوں کا بھی رنگ اڑا مارتے وقت

ایک لمحے کے لیے ایسے لگا کافر ہوں

کلمہ پڑھنے کو قاتل نے کہا مارتے وقت


مژدم خان

No comments:

Post a Comment