حجم دشمن نے گھٹانے نہ دیا مارتے وقت
ورنہ لے اڑتی ہمیں اس سے ہوا مارتے وقت
آگہی موت سے بھی اگلا کوئی درجہ ہے
دشمنوں نے مجھے بیدار کیا مارتے وقت
صور پھونکا تو فرشتے نے فرشتے سے کہا
نطشے کیا سوچ رہا ہو گا خدا مارتے وقت؟
وقت قاتل کو بھی تہذیب سکھا دیتا ہے
پاؤں رکھنا تھا جہاں ہاتھ رکھا مارتے وقت
اپنی آزادی پہ خوش بھی نہیں ہو سکتا میں
یہاں ہوتے ہیں پرندے بھی رہا مارتے وقت
مرنے والوں کی طبیعت میں بھی رنگینی تھی
مارنے والوں کا بھی رنگ اڑا مارتے وقت
ایک لمحے کے لیے ایسے لگا کافر ہوں
کلمہ پڑھنے کو قاتل نے کہا مارتے وقت
مژدم خان
No comments:
Post a Comment