مومن سُوئے شرق اس بت کافر کا تو گھر ہے
ہم سجدہ کدھر کرتے ہیں اور کعبہ کدھر ہے
رندوں پہ یہ بے داد خدا سے نہیں ڈرتے
اے محتسب! ایسا تجھے کیا شاہ کا ڈر ہے
ایسے دمِ آرام اثرِ خفتہ کب اٹھا
ہم حال کہے جائیں گے سنیۓ کہ نہ سنیۓ
اتنا ہی تو یاں صحبتِ ناصح کا اثر ہے
وہ ذبح کرے اور یہاں جان فدا ہو
ایسے سے نبھے یوں یہ ہمارا جگر ہے
اب بھی نہیں جاتی تِرے آ جانے کی امید
گو پھر گئیں آنکھیں پہ نِگہ جانبِ در ہے
دل کھول کے مل لیجیے مومنؔ صنموں سے
اس سال میں گر سُوۓ حرم عزمِ سفر ہے
مومن خان مومن
No comments:
Post a Comment