بلا اپنے لیے دانستہ ناداں مول لیتے ہیں
عبث جی بیچ کر الفت کو انساں مول لیتے ہیں
نہ پوچھ احوال بے درد اپنے بیمارِ محبت کا
زمیں اس کیلئے اب تو عزیزاں مول لیتے ہیں
میں اس گلشن کا بلبل ہوں، بہار آنے نہیں پاتی
مگر جانا نہیں شاید کہ یاں سے اہلِ عالم کو
یہ دو دن کیلئے کیا قصر و ایواں مول لیتے ہیں
کیا گو نقش پائے مور ہم کو خاکساری نے
جو اب بھی چاہیں تو تختِ سلیماں مول لیتے ہیں
عزیزِ خلق اتنا تو کیا ہے مجھ کو داغوں نے
کہ مردمِ جان کر سروِ چراغاں مول لیتے ہیں
ہمارا شعر ہر اک عالمِ تصویر رکھتا ہے
مرقع جان کر ذی فہم دیواں مول لیتے ہیں
تِرے ابرو کے سودائی نہایت تنگ ہیں قاتل
گلے کے کاٹنے کو، تیغِ عریاں مول لیتے ہیں
یہ آتؔش نالۂ عشاق معشوقوں کو بھایا ہے
کہ صیادوں سے مرغانِ خوش الحاں مول لیتے ہیں
حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment