سیماب ہے پہلو میں مِرے، دل تو نہیں یہ
اس دل نے ستایا مجھے، غارت ہو کہیں یہ
معلوم رسائی تِرے کانوں تک اگرچہ
نالہ مِرا کہتا ہے کہ ہے عرشِ بریں یہ
کچھ شورِ محبت کی تو لذت ہی نہ پوچھو
اک آہ ہی کر لوں کہ ہو شاید اسے تاثیر
فرصت نہیں اب ہے نفسِ بازپسیں یہ
حسرت سے کہا خضرؑ نے دیکھ اس کی گلی کو
مرتا ہوں ابھی گر ملے مدفن کو زمیں یہ
کیا یار کے آنے کی سنی کچھ کہ اجل کی
کاہے کی خوشی ہجر میں ہے جانِ حزیں یہ
یا پردہ اٹھا ورنہ کھلا شوقِ نہانی
اب مجھ سے تو چھپتا نہیں اے پردہ نشیں یہ
بے دم سا پڑا تھا کوئی اس کوچہ میں اس نے
دروازے سے آ جھانک کے دیکھا جو کہیں یہ
اس رحم کے صدقے وہیں گھبرا کہ کہا ہاں
جا کر کوئی دیکھو کہیں مومنؔ تو نہیں یہ
مومن خان مومن
No comments:
Post a Comment