فلمی گیت
درد یوں دل سے لگا ہو جیسے
میری چاہت کا صلہ ہو جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو
پاس رہ کے بھی بہت دور ہوں میں
ایک بھولی سی صدا ہو جیسے
میری چاہت کا صلہ ہو جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو
عشق ہر دور میں مجبور رہا
حسن والوں کا خدا ہو جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو جیسے
میری چاہت کا صلہ ہو جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو جیسے
مال و زر راہ میں دیوار بنے
جرم غربت کی سزا ہو جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو جیسے
میری چاہت کا صلہ ہو جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو
خواجہ پرویز
No comments:
Post a Comment