Tuesday, 15 September 2020

درد یوں دل سے لگا ہو جیسے

فلمی گیت

درد یوں دل سے لگا ہو جیسے
میری چاہت کا صلہ ہو جیسے 
درد یوں دل سے لگا ہو 

پاس رہ کے بھی بہت دور ہوں میں
ایک بھولی سی صدا ہو جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو جیسے 
میری چاہت کا صلہ ہو جیسے 
درد یوں دل سے لگا ہو 

عشق ہر دور میں مجبور رہا
حسن والوں کا خدا ہو  جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو جیسے 
میری چاہت کا صلہ ہو جیسے 
درد یوں دل سے لگا ہو جیسے 

مال و  زر راہ میں دیوار بنے
جرم غربت کی سزا ہو جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو جیسے 
میری چاہت کا صلہ ہو جیسے 
درد یوں دل سے لگا ہو

خواجہ پرویز

No comments:

Post a Comment