Tuesday, 15 September 2020

ٹوٹنے اور بکھرنے کا چلن مانگ لیا

ٹوٹنے اور بکھرنے کا چلن مانگ لیا
ہم نے حالات سے شیشے کا بدن مانگ لیا
اپنے کالر میں جو اک پھول تھا اس کے بدلے
ہم سے اک شخص نے خوابوں کا چمن مانگ لیا
جب سنا آئیں گے کچھ لوگ نصیحت کرنے
ایک دُوجے سے وہیں ہم نے وچن مانگ لیا
وو مسلمان تھی، الله سے شرماتی رہی
اور بھگوان سے گوری نے سجن مانگ لیا
زور تھا شیخ و برہمن کا ہر ایک بستی میں
ہم نے رہنے کو الگ شہرِ سخن مانگ لیا
ہم بھی موجود تھے تقدیر کے دروازے پر
لوگ دولت پہ گرے، ہم نے وطن مانگ لیا
جس کی تحریر میں ہونا تھا ہمیں دفن قتیل
اس نے واپس وہی کاغذ کا کفن مانگ لیا

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment