ٹوٹنے اور بکھرنے کا چلن مانگ لیا
ہم نے حالات سے شیشے کا بدن مانگ لیا
اپنے کالر میں جو اک پھول تھا اس کے بدلے
ہم سے اک شخص نے خوابوں کا چمن مانگ لیا
جب سنا آئیں گے کچھ لوگ نصیحت کرنے
وو مسلمان تھی، الله سے شرماتی رہی
اور بھگوان سے گوری نے سجن مانگ لیا
زور تھا شیخ و برہمن کا ہر ایک بستی میں
ہم نے رہنے کو الگ شہرِ سخن مانگ لیا
ہم بھی موجود تھے تقدیر کے دروازے پر
لوگ دولت پہ گرے، ہم نے وطن مانگ لیا
جس کی تحریر میں ہونا تھا ہمیں دفن قتیل
اس نے واپس وہی کاغذ کا کفن مانگ لیا
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment