Tuesday, 15 September 2020

جب بھی کوئی ادا تری بھا گئی مجھے

جب بھی کوئی ادا تِری بھا گئی مجھے
اپنی تباہیوں پہ ہنسی آ گئی مجھے
وہ آزار کہ جس کی مروت کا زعم تھا
دل سے نکل کے اور بھی تڑپا گئی مجھے
ممکن ہے اس سے موت بھی گوش آشنا نہ ہو
جو بات بے رخی تِری سمجھا گئی مجھے
اپنی نظر بھی اب مجھے پہچانتی نہیں
شاید تِری نگاہِ کرم کھا گئی مجھے

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment