جو مکیں جس مکاں میں بستا ہے
اس کی چھت سے لہو برستا ہے
اب یہ عالم ہے اپنے شہروں کا
لوگ روتے ہیں، ظلم ہنستا ہے
کوئی رہبر نہیں بتاتا ہمیں
بولتا ہے جو امن کے حق میں
ظلم آوازیں اس پہ کستا ہے
ایک اک چیز ہو گئی مہنگی
صرف انسانوں کا خون سستا ہے
سانپ ڈستے نہیں ہیں سانپوں کو
آدمی، آدمی کو ڈستا ہے
ہر شریف آدمی قتیل یہاں
آبرو کے لیے ترستا ہے
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment