Tuesday, 15 September 2020

جو مکیں جس مکاں میں بستا ہے

جو مکیں جس مکاں میں بستا ہے
اس کی چھت سے لہو برستا ہے
اب یہ عالم ہے اپنے شہروں کا
لوگ روتے ہیں، ظلم ہنستا ہے
کوئی رہبر نہیں بتاتا ہمیں
کس طرف دوستی کا رستہ ہے
بولتا ہے جو امن کے حق میں
ظلم آوازیں اس پہ کستا ہے
ایک اک چیز ہو گئی مہنگی
صرف انسانوں کا خون سستا ہے
سانپ ڈستے نہیں ہیں سانپوں کو
آدمی، آدمی کو ڈستا ہے
ہر شریف آدمی قتیل یہاں
آبرو کے لیے ترستا ہے

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment