شاعر کا ماضی
یہ شب ہائے گزشتہ کے جنوں انگیز افسانے
یہ آوارہ پریشاں زمزمے، سازِ جوانی کے
یہ میری عشرتِ برباد کی بے باک تصویریں
یہ آئینے مِرے شوریدہ آغازِ جوانی کے
یہ اک رنگیں غزل لیلیٰ کی زلفوں کی ستائش میں
یہ جذبے سے بھرا اظہار، شیریں کی محبت کا
یہ اک گزری کہانی آنسوؤں کی اور آہوں کی
کہاں ہو او مِری لیلیٰ!، کہاں ہو او مِری شیریں؟
سلیمیٰ تم بھی تھک کر رہ گئیں راہِ محبت میں؟
مِرے عہدِ گزشتہ پر سکوتِ مرگ طاری ہے
مِری شمعو! بجھی جاتی ہو کس طوفانِ ظلمت میں؟
مِرے شعرو! مِرے فردوسِ گم گشتہ کے نظارو
ابھی تک ہے دیارِ روح میں اک روشنی تم سے
کہ میں حسن و محبت پر لٹانے کے لیے تم کو
اڑا لایا تھا جا کر محفلِ مہتاب و انجم سے
ن م راشد
No comments:
Post a Comment