Wednesday, 20 April 2022

امشب کسی کاکل کی حکایات ہے واللہ

 امشب کسی کاکل کی حکایات ہے واللہ

کیا رات ہے، کیا رات ہے، کیا رات ہے واللہ​

دل چھین لیا اس نے دِکھا دستِ حنائی

کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ​

عالم ہے جوانی کا جو ابھرا ہوا سینہ

کیا گات ہے، کیا گات ہے، کیا گات ہے واللہ

​دشنام کا پایا جو مزہ اس کے لبوں سے

صلوٰت ہے، صلوٰت ہے، صلوٰت ہے واللہ​

جرأت کی غزل جس نے سُنی اس نے کہا واہ

کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ

قلندر بخش جرأت

No comments:

Post a Comment