آدھے سیارے پر
آدھا پیڑ خزاں کی زد میں جس پر پھول نہ پات
آدھے سیارے پر سورج، آدھے پربرسات
آدھے فوارے پر پانی اور آدھے میں ریت
سچے ہاتھ درانتی والے کاٹ رہے ہیں کھیت
اچھی فصل ہوئی ہے اب کے، مالک کا احسان
اس آنگن میں آؤ ساتھی مل کر کوٹیں دھان
ایک طرف پیتل کی گھنٹی، ایک طرف دیوار
اس اُجلی آواز کے رُخ پر کھولے رکھو دوار
خالی ہاتھ نہیں لوٹے گا اے میرے پاتال
کان کنوں کا ٹوکرا ہو یا ماہی گیر کا جال
ثروت حسین
No comments:
Post a Comment