Saturday, 17 September 2022

ستم میں بھی شان کرم دیکھتے ہیں

 ستم میں بھی شانِ کرم دیکھتے ہیں

ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

جہاں تک تعلق ہے عیب و خطا کا

جو اہلِ نظر ہیں وہ کم دیکھتے ہیں

تِرا انتظار اس قدر بڑھ گیا ہے

کہ ہر آنے والے کو ہم دیکھتے ہیں

نظر سُوئے کعبہ ہے دل بتکدے میں

ہم اندازِ اہلِ حرم دیکھتے ہیں

نگاہیں یوں ہی مل گئیں بے ارادہ

نہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں

یہ دنیا تو کیا ہے سرِ عرشِ اعظم

ہم اپنا ہی نقشِ قدم دیکھتے ہیں

کسے اپنا حالِ پریشاں سنائیں

پریشاں زمانے کو ہم دیکھتے ہیں

مِری منزلت کچھ اسی سے سمجھیے

مِری راہ دَیر و حرم دیکھتے ہیں

تِری جستجو میں ہم اہلِ تمنا

خوشی دیکھتے ہیں نہ غم دیکھتے ہیں

مشیر اہلِ بینش مِری ہر غزل میں

دماغ اور دل کو بہم دیکھتے ہیں


مشیر جھنجھانوی

No comments:

Post a Comment