Sunday, 20 June 2021

پکارنے کا قرینہ میں سوچتا ہی رہا

 پکارنے کا قرینہ میں سوچتا ہی رہا

حسیں کہوں کہ حسینہ میں سوچتا ہی رہا

نمی سی تھی دمِ رخصت کچھ ان کے آنچل پر

وہ اشک تھے کہ پسینہ، میں سوچتا ہی رہا

تِرے کرم کی کوئی حد نہیں، حساب نہیں

چبا کے نانِ شبینہ میں سوچتا ہی رہا

ادھر وہ پہلی کو آئے تھے ایک پل کے لیے

ادھر تمام مہینہ، میں سوچتا ہی رہا


محمود سرحدی

No comments:

Post a Comment