Wednesday, 15 December 2021

سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے

سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے

یہ وہ مرہم ہے جو زخموں کو شفا بخشے ہے

زلف اپنی رخ روشن پہ سجی رہنے دو

میرے آئینۂ دل کو یہ جِلا بخشے ہے

بزم ہستی میں جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور

کون جیتا ہے سدا کس کو قضا بخشے ہے

اس کے قبضے میں تو غم اور خوشی دونوں ہیں

اب یہ ہے مصلحت یار وہ کیا بخشے ہے

زندگی کی رہِ پُر خار میں تم ساتھ رہو

شمع آنکھوں کو اندھیرے میں ضیا بخشت ہے

جمع ہے بھیڑ خطا واروں کی اس کے در پر

دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس کی خطا بخشے ہے

کون دنیا میں پریشان نہیں ہے شاداں؟

کس کو تپتے ہوئے صحرا کی ہوا بخشے ہے


شاداں بدایونی

عبدالمجید صدیقی

No comments:

Post a Comment