سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے
یہ وہ مرہم ہے جو زخموں کو شفا بخشے ہے
زلف اپنی رخ روشن پہ سجی رہنے دو
میرے آئینۂ دل کو یہ جِلا بخشے ہے
بزم ہستی میں جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور
کون جیتا ہے سدا کس کو قضا بخشے ہے
اس کے قبضے میں تو غم اور خوشی دونوں ہیں
اب یہ ہے مصلحت یار وہ کیا بخشے ہے
زندگی کی رہِ پُر خار میں تم ساتھ رہو
شمع آنکھوں کو اندھیرے میں ضیا بخشت ہے
جمع ہے بھیڑ خطا واروں کی اس کے در پر
دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس کی خطا بخشے ہے
کون دنیا میں پریشان نہیں ہے شاداں؟
کس کو تپتے ہوئے صحرا کی ہوا بخشے ہے
شاداں بدایونی
عبدالمجید صدیقی
No comments:
Post a Comment