تِرے دیدار کی یہ زحمت ہے
شاعری کب مِری علامت ہے
کچھ کہو تو بھی رُوٹھ جائے ہے
کچھ نہ کہنا بھی ایک مصیبت ہے
دُور ہے مجھ سے وہ تو کیا پر وہ
یار دل میں میرے سلامت ہے
پاس آنے کا تو امکان نہیں
دُور رہنا بھی اک قیامت ہے
جیت لیتا ہے دل نگاہوں سے
مِرے دلبر کی یہ تو عادت ہے
ذہن میں ہے وہ مِرے آٹھ پہر
کچھ نہیں اس کی یہ محبت ہے
دل حمزہ میں ہے مقید وہ
مِرے مولا تِری عنایت ہے
حمزہ علی
No comments:
Post a Comment