Saturday, 10 December 2016

میں نے دیکھا

میں نے دیکھا

پانیوں پر
میں اشک لکھنے چلا تھا
دیدۂ خوں دیکھ کر
ہر بوند
ہوا کے سفر پر نکل گئی
منصف کے پاس گیا
شاہ کی مجبوریوں میں
وہ جکڑا ہوا تھا
سوچا
پانیوں کی بے مروتی کا
فتوی ہی لے لیتا ہوں
ملاں شاہ کے دستر خوان پر
مدہوش پڑا ہوا تھا
دیکھا، شیخ کا در کھلا ہوا ہے
سوچا
شاید یہاں دادرسی کا
کوئی سامان ہو جائے گا
وہ بچارہ تو
پریوں کے غول میں گھرا ہوا تھا
کیا کرتا کدھر کو جاتا
دل دروازہ کھلا
خدا جو میرے قریب تھا
بولا
کتنے عجیب ہو تم بھی
کیا میں کافی نہیں
جو ہوس کے اسیروں کے پاس جاتے ہو
میرے پاس آؤ
ادھر ادھر نہ جاؤ
میری آغوش میں 
تمہارے اشکوں کو پناہ ملے گی
ہر بوند 
رشک لعل فردوس بریں ہو گی
اک قطرہ مری آنکھ سے ٹپکا
میں نے دیکھا
شاہ اور شاہ والوں کی گردن میں
بے نصیبی کی زنجیر پڑی ہوئی تھی

مقصود حسنی

No comments:

Post a Comment