Thursday, 9 December 2021

مری گردن پہ گرتے ہیں تو خنجر ٹوٹ جاتے ہیں

مِری گردن پہ گِرتے ہیں تو خنجر ٹُوٹ جاتے ہیں

جو دُشمن مجھ سے ٹُکراتے ہیں اکثر ٹُوٹ جاتے ہیں

کبھی ساحل سے ٹکرا کر مِری کشتی بکھرتی ہے

کبھی کشتی سے ٹکرا کر سمندر ٹوٹ جاتے ہیں

اک ایسا دور بھی آتا ہے کوشش کے علاقے میں

عمل بے کار ہوتا ہے، مقدر ٹوٹ جاتے ہیں

یہ دل ہے، ہاتھ میں لینے سے پہلے یہ سمجھ رکھو

ذرا سی ٹھیس لگ جانے سے ساغر ٹوٹ جاتے ہیں

جو تصویریں بناتا ہوں، وہ میرا منہ چڑاتی ہیں

اُبھرتے ہیں تصور میں جو پیکر ٹوٹ جاتے ہیں

تکبر اک بری شے ہے، اِسے سر پر نہ بٹھلاؤ

جو سر اوپر اُچھلتے ہیں، وہی سر ٹوٹ جاتے ہیں

نفس میں نفس ملتا ہے تو ایمان ڈگمگاتا ہے

جہاں اُمت بہکتی ہے، پیمبر ٹوٹ جاتے ہیں

کرامت خواب میں یوں خواب کا منظر نہ دیکھو تم

حقیقت جاگ اُٹھتی ہے تو منظر ٹوٹ جاتے ہیں​


کرامت علی کرامت

No comments:

Post a Comment