یقیں میں آئیں نہ آئیں گماں میں آتے ہیں
مِرے رقیب مِری داستاں میں آتے ہیں
جنہیں بھلانے کی کوشش میں ہوں میں صبح و مسا
وہ یاد آج بھی دردِ نہاں میں آتے ہیں
میں اس سے آیا ہوں برسوں کے بعد ملنے ذرا
تغیرات عجب مہرباں میں آتے ہیں
سب اس کے نام پہیلی سے ملتے جلتے ہیں
وہ گفتگو کے مِری درمیاں میں آتے ہیں
یہ عشق وشق کی باتیں، یہ بے حیا ارماں
امڈ کے جانے کہاں سے جواں میں آتے ہیں
ظہیر الہ آبادی
No comments:
Post a Comment