Thursday, 9 December 2021

خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی

 خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی

کہ دردِ دل نہیں جاتا کسی دوا سے بھی

جلا رکھے ہیں مِری زندگی میں سانسوں نے

چراغ ایسے کہ بجھتے نہیں ہوا سے بھی

مِرے لیے مِرا اللہ کون سا کم ہے

مجھے تو کام نہیں ہے کسی خدا سے بھی

چراغِ راہ بنایا ہے تم نے کس کس کو

کبھی ملے ہو محمدؐ کے نقشِ پا سے بھی

ہم اپنی جان اسی پر نثار کرتے ہیں

ہمیں وہ قتل کرے چاہے جس ادا سے بھی

اسی چمن میں جو میرا چمن ہے میرا چمن

بہت سے پیڑ مِرے خون کے ہیں پیاسے بھی

ستم کسی پہ وہ کرتے نہیں ہمارے سوا

جفا تو ہے یہ مگر کم نہیں وفا سے بھی

دھڑکتے شعر سنے ہم نے بنتِ کیف سے آج

ملے ہم ایک محبت کی شاعرہ سے بھی


پروین کیف

No comments:

Post a Comment