Thursday, 9 December 2021

تجلی تم سے ممکن ہو تو کاشانہ میں رکھ دینا

 تجلی تم سے ممکن ہو تو کاشانہ میں رکھ دینا

چراغِ آرزو دل کے سِیہ خانہ میں رکھ دینا

مجھے یہ چشمۂ حیواں کے پانی سے زیادہ ہے

تم اپنے منہ کی جُوٹھی میرے پیمانہ میں رکھ دینا

کسی کی دلربا تصویر کہتی ہے اشاروں سے

صنم خانہ کی زینت ہوں صنم خانہ میں رکھ دینا

تِرے قربان او قاصد! مِری آنکھیں بھی لیتا جا

انہیں کے واسطے ہیں ان کے نذرانہ میں رکھ لینا

وہ کہتے ہیں؛ کوئی آسان ہے سودا محبت کا

یہاں پڑتا ہے پہلے جان بیعانہ میں رکھ دینا

اسی دربار کے ہم بھی دعا گو تھے کبھی ساقی

ہمارے نام کی بھی ایک پیمانہ میں رکھ دینا

بس اب تو رات دن یہ شغل یہ سودا ہے افسر کو

تِری تصویر لینا اور بُت خانہ میں رکھ دینا


افسر صدیقی

No comments:

Post a Comment