تھا اک سولہ دسمبر آسماں روشن بھی تھوڑا تھا
ہوا بھی سرد تھی موسم نے بھی کچھ رنگ اوڑھا تھا
یہ تھا سُورج قیامت کا، یا اک آفت تھی نا معلوم؟
کہ جس نے شام تک امن و اماں کے رُخ کو موڑا تھا
نہیں معلوم تھا اس دن کہ کیا کچھ ہونے والا ہے
سنوارا تھا سبھی کو ماں نے پھر سکول چھوڑا تھا
وہ تھے ظالم انہیں کیا شرم تھی وہ آن پہنچے تھے
انہوں نے باغ کو ظُلم و ستم سے خوب توڑا تھا
وہاں جو پھول تھے کلیاں تھیں سب مُرجھا گئیں اس دن
اسی دن بے ضمیروں نے ہمارا خُوں نچوڑا تھا
وہ بچے تھے، سبھی معصوم تھے جن کے جنازے تھے
کلیجہ چیر کو ماؤں کا اس دن دل بھی توڑا تھا
یہی تھی اک دُعا حافظ کی ہے بھی اور رہے گی بھی
خُدا کر دے غرق ان کو جنہوں نے ظُلم توڑا تھا
حافظ نعمان احمد
No comments:
Post a Comment