Wednesday, 16 December 2020

اسی لیے مرے رستے میں گھر نہیں آیا

 اسی لیے مرے رستے میں گھر نہیں آیا

ترے دیار سے میں لوٹ کر نہیں آیا

دکھاؤں دل میں کسے ایسے شہر میں کہ جہاں

اداس چہرہ کسی کو نظر نہیں آیا

مرے نصیب میں زندہ دلی نہیں لکھی

میں بے ہنر ہی رہا  یہ ہنر نہیں آیا

تمہیں  کسی نے کبھی یہ نصیحتیں نہیں کی

تمہاری سمت کوئی راہبر نہیں آیا؟

مجھے یہ ضد ہے تری دید دیدنی ہو رضا

اسی لیے تو دعا میں اثر نہیں آیا


نعیم رضا

No comments:

Post a Comment