اسی لیے مرے رستے میں گھر نہیں آیا
ترے دیار سے میں لوٹ کر نہیں آیا
دکھاؤں دل میں کسے ایسے شہر میں کہ جہاں
اداس چہرہ کسی کو نظر نہیں آیا
مرے نصیب میں زندہ دلی نہیں لکھی
میں بے ہنر ہی رہا یہ ہنر نہیں آیا
تمہیں کسی نے کبھی یہ نصیحتیں نہیں کی
تمہاری سمت کوئی راہبر نہیں آیا؟
مجھے یہ ضد ہے تری دید دیدنی ہو رضا
اسی لیے تو دعا میں اثر نہیں آیا
نعیم رضا
No comments:
Post a Comment