رہی ہے لاحق یہی فکر کتنے سال ہمیں
جدا نہ کر دے کوئی تجھ سے خوش جمال ہمیں
بُنت میں اس کی تِری یاد کار فرما ہے
بہت عزیز ہے تنہائیوں کا جال ہمیں
نہ رنجِ دل شکنی ہے نہ خوفِ تنہائی
ستا رہا ہے بس اک ان کہا ملال ہمیں
نہ جانے شام ڈھلے کیا ہو عالمِ گریہ
ابھی تو ضبط پہ حاصل ہے کچھ کمال ہمیں
تو کیا پلٹ کے تِری سمت دیکھ سکتے ہیں
اگر ستانے لگے خواہشِ وصال ہمیں
رتیں بدلتی ہیں لیکن ہر ایک موسم میں
تِری لپیٹ میں رکھتی ہے ایک شال ہمیں
بلانے لگتا ہے ہر شام بے قراری سے
تِری فصیل پر ٹانگا ہوا رومال ہمیں
شمامہ افق
No comments:
Post a Comment