لگا کے دل کوئی کچھ پل امیر رہتا ہے
پھر اک عمر وہ غم میں اسیر رہتا ہے
کیوں ہاتھ دل سے لگاتے ہو بار بار اپنا
کیا دل میں اب بھی کوئی بے نظیر رہتا ہے
تیری زباں پہ قناعت کی بات ٹھیک نہیں
تیرے بدن پہ لباسِ حرِیر رہتا ہے
یقین آ گیا ان مہرباں ہواؤں سے
اسی گلی میں میرا دستگیر رہتا ہے
تیرے فراق کا غم وہ ہے کہ دلاسے کو
تا صبح بام پہ ماہِ منیر🌕 رہتا ہے
پھر اہلِ عشق کی تخلیق ہوتی ہے پہلے
جنوں کی آگ میں برسوں خمیر رہتا ہے
انیس ابر
No comments:
Post a Comment