Wednesday, 16 December 2020

لگا کے دل کوئی کچھ پل امیر رہتا ہے

 لگا کے دل کوئی کچھ پل امیر رہتا ہے

پھر اک عمر وہ غم میں اسیر رہتا ہے

کیوں ہاتھ دل سے لگاتے ہو بار بار اپنا

کیا دل میں اب بھی کوئی بے نظیر رہتا ہے

تیری زباں پہ قناعت کی بات ٹھیک نہیں

تیرے بدن پہ لباسِ حرِیر رہتا ہے

یقین آ گیا ان مہرباں ہواؤں سے

اسی گلی میں میرا دستگیر رہتا ہے

تیرے فراق کا غم وہ ہے کہ دلاسے کو

تا صبح بام پہ ماہِ منیر🌕 رہتا ہے

پھر اہلِ عشق کی تخلیق ہوتی ہے پہلے

جنوں کی آگ میں برسوں خمیر رہتا ہے


انیس ابر

No comments:

Post a Comment