اس کی گود میں سر رکھوں تو
(کیا بتلاؤں کیا ہوتا ہے)
سر کا درد چلا جاتا ہے
آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں
ہونٹوں پر اک ہنسی ابھر کر
چہرے پر بھی چھا جاتی ہے
یعنی غم کو کھا جاتی ہے
اس کی گود میں بیٹھا ٹیڈی
اکثر مجھ سے لڑ پڑتا ہے
یوں کہتا ہے؛ حد ہوتی ہے
پیار جتانے والے لڑکے
پیار جتانے آ جاتے ہو
تم گودی پر بار رہے ہو
میرا کیوں حق مار رہے ہو؟
شہزاد مہدی
No comments:
Post a Comment