کہیں پہ درد کہیں پر خیال بانٹ دیا
ہمارے حصے میں آیا جو مال بانٹ دیا
زیادہ صرف ہوا حسن سادگی پہ تری
جو باقی بچ گیا رب نے جمال بانٹ دیا
وہ ایک دوجے کی روزی کی فکر کرنے لگے
کہ ساحلوں پہ مچھیروں نے جال بانٹ دیا
کوئی بھی زخم کی حدت سے آشنا نہ ہوا
سو اپنے آپ سے سارا ملال، بانٹ دیا
کوئی بھی شعر، غزل کچھ سنبھال رکھا نہیں
کہ حانی پاس تھا جتنا کمال، بانٹ دیا
حنان حانی
No comments:
Post a Comment