Wednesday, 9 February 2022

قبول کرتے ہوئے اجتناب کرتے ہوئے

 قبول کرتے ہوئے، اجتناب کرتے ہوئے

کوئی خلش سی رہی انتخاب کرتے ہوئے

کچھ اتنا فاصلہ تھا مجھ میں اور قافلے میں

سفر تمام ہوا ہمرکاب کرتے ہوئے

یہ کس کا نام ابھرنے لگا ہے کاغذ پر

بیاضِ عمر تیرا انتساب کرتے ہوئے

خود اپنے آپ پہ ترتیب وار کھل رہا ہوں

رموز کون و مکاں بے حجاب کرتے ہوئے

عجیب یافت و نقصان ہے محبت کا

میں شرمسار ہوا ہوں حساب کرتے ہوئے

تمہارے بعد میں دنیا کی سمت دیکھتا ہوں

دل و نگاہ کو وقفِ عذاب کرتے ہوئے


قاسم حیات

No comments:

Post a Comment