جس ستارے کا وہ حواری ہے
اس سے میرے پرانی یاری ہے
کیا سروکار اس کو ماضی سے
آئینہ حال کا پجاری ہے
یہ جو وحشت زدہ سی بیٹھی ہے
وہ ہوا پر رہے سوار، مگر
کب گرا دے یہ وہ سواری ہے
سانپ ہی سانپ اس میں پلتے ہیں
آستیں ہے کہ یہ پٹاری ہے
وہ ہوس اور یہ محبت ہے
وہ تمہاری ہے، یہ ہماری ہے
وہ جب آئے گا تب یہ جائے گا
ایک سکتہ جو مجھ پہ طاری ہے
موت بھی دیکھ کر کہے اس کو
آج مرنے کی میری باری ہے
ہر کوئی جانتا ہے جان اس کو
جان تو ہر کسی کو پیاری ہے
جاوید احمد
No comments:
Post a Comment