Wednesday, 4 January 2017

یہ جو ہم دوستی اٹھا لائے

یہ جو ہم دوستی اٹھا لائے
اصل میں دشمنی اٹھا لائے
ایک پل بھی خوشی کا جس میں نہیں 
ہم بھی کیا زندگی اٹھا لائے
اب جو فرصت نہیں ہے رونے سے 
کن لبوں کی ہنسی اٹھا لائے
خاک پانی ہوا میں آگ ملی
جس سے ہم شاعری اٹھا لائے
آگ لینے گئے تھے موسیٰ بھی 
جا کے پیغمبری اٹھا لائے
اس کے بس میں کیا یہ دل ہم نے 
اور اک بے بسی اٹھا لائے
اس کے چہرے کو پہلے چاند کیا 
اس کی پھر چاندنی اٹھا لائے
اس کی خوشبو صبا تو لے آئی 
اس کی تصویر بھی اٹھا لائے
خواب اس کو نہ لا سکے لیکن 
شب ستاروں بھری اٹھا لائے

جاوید احمد

No comments:

Post a Comment