یہ جو ہم دوستی اٹھا لائے
اصل میں دشمنی اٹھا لائے
ایک پل بھی خوشی کا جس میں نہیں
ہم بھی کیا زندگی اٹھا لائے
اب جو فرصت نہیں ہے رونے سے
خاک پانی ہوا میں آگ ملی
جس سے ہم شاعری اٹھا لائے
آگ لینے گئے تھے موسیٰ بھی
جا کے پیغمبری اٹھا لائے
اس کے بس میں کیا یہ دل ہم نے
اور اک بے بسی اٹھا لائے
اس کے چہرے کو پہلے چاند کیا
اس کی پھر چاندنی اٹھا لائے
اس کی خوشبو صبا تو لے آئی
اس کی تصویر بھی اٹھا لائے
خواب اس کو نہ لا سکے لیکن
شب ستاروں بھری اٹھا لائے
جاوید احمد
No comments:
Post a Comment