کم کم کہو، سنبھل کے کہو، شان سے کہو
رو دادِ شوقِ ضبط کے عنوان سے کہو
اس میں کچھ اپنے پیار کی عزت کا ہے سوال
آ جائے راہ پر دلِ نادان سے کہو
ترکِ وفا جہاں میں کوئی جرم تو نہیں
اس در پہ اہلِ دل کو نہیں پوچھتا کوئی
تم اک رئیسِ شہر ہو دربان سے کہو
ہم نے بنا لیا ہے نیا پھر سے آشیاں
جاؤ یہ بات پھر کسی طوفان سے کہو
تم اور سدا قتؔیل کو چاہو گے جانِ من
یہ سب حکایتیں کسی انجان سے کہو
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment