Wednesday, 4 January 2017

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح 
وہ آشنا بھی مِلا ہم سے اجنبی کی طرح
کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی 
چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح
بڑھا کے پیاس مِری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا 
وہ کر رہا ہے مروت دل لگی کی طرح
ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا 
قبول ہم نے کیئے جس کے غم خوشی طرح
کبھی نا سوچا تھا ہم نے قؔتیل اس کے لیے 
کرے گا ہم پہ ستم وہ بھی ہر کسی کا طرح

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment