فسردگی کا مداوا کریں تو کیسے کریں
وہ لوگ جو تِرے قربِ جمال سے بھی ڈریں
اک ایسی راہ پہ ڈالا ہے تیرے غم نے کہ ہم
کسی بھی شکل کو دیکھیں تو رک کے آہ بھریں
یہ کیا کہ بے سبب آئے قضا جوانی میں
شبِ الم کے بھی ہوتے ہیں کچھ نہ کچھ آداب
تڑپنے والے سحر تک تو انتظار کریں
ثبوتِ عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں
کچھ ایسے دوست بھی میری نگاہ میں ہیں قتیلؔ
کہ مجھ کو باز رکھیں جس سے، خود اسی پہ مریں
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment