Wednesday, 4 January 2017

چمن چمن اسی رنگیں قبا کو دیکھتے ہیں

چمن چمن اسی رنگیں قبا کو دیکھتے ہیں
ہر ایک جلوے میں جلوہ نما کو دیکھتے ہیں
تیرے مزاج سے ہم اس قدر ہوئے مانوس
کہ شاخ گل میں بھی تیری ادا کو دیکھتے ہیں
کلی پہ تیرے لبوں کا گماں گزرتا ہے
گلوں میں ہم تِرے رنگ حنا کو دیکھتے ہیں
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنے والے
تجھے خبر بھی ہے آبِ بقا کو دیکھتے ہیں
دمکنے لگتے ہیں ذرے جدھر سے تُو گزرے
ستارے جھک کے تِرے نقش پا کو دیکھتے ہیں
تجھے ہو علم تو کیسے، کہ دیکھنے والے
چھپا کے تجھ سے تِری ہر ادا کو دیکھتے ہیں
کچھ اس میں اور ہی چاہت کا لطف ہے محسنؔ
ہم اجنبی کی طرح آشنا کو دیکھتے ہیں

محسن بھوپالی

No comments:

Post a Comment