Thursday, 9 December 2021

حنوط سلسلے رکھے ہوئے خیالوں کے

 حنوط سلسلے رکھے ہوئے خیالوں کے

عجائبات ہیں دل میں پری جمالوں کے

کہیں خموش کہیں گونجتے اندھیرے ہیں

بجھے چراغ ہیں ماتم کدے اجالوں کے

کہیں پہ آئینے حیرت کے انتظار میں ہیں

کہیں پہ سنگ بھی رکھے ہیں کچھ سوالوں کے

عجب ہیں دھند کے منظر شجر اداس اداس

کہیں پہ موڑ ہیں ملنے بچھڑنے والوں کے


جاوید احمد

No comments:

Post a Comment