حنوط سلسلے رکھے ہوئے خیالوں کے
عجائبات ہیں دل میں پری جمالوں کے
کہیں خموش کہیں گونجتے اندھیرے ہیں
بجھے چراغ ہیں ماتم کدے اجالوں کے
کہیں پہ آئینے حیرت کے انتظار میں ہیں
کہیں پہ سنگ بھی رکھے ہیں کچھ سوالوں کے
عجب ہیں دھند کے منظر شجر اداس اداس
کہیں پہ موڑ ہیں ملنے بچھڑنے والوں کے
جاوید احمد
No comments:
Post a Comment