Thursday, 9 December 2021

ظلم کی حد کہاں پہ ہوتی ہے

 ظلم کی حد کہاں پہ ہوتی ہے

میں بتاؤں جہاں پہ ہوتی ہے

آ، وفا کا پتہ میں دیتا ہوں

وہ جہاں ہے وہاں پہ ہوتی ہے

اپنے غم تم سیمٹ لو بھائی

کس کو فرصت یہاں پہ ہوتی ہے

تم محبت کا پوچھتے ہو نا؟

یہ زمیں آسماں پہ ہوتی ہے

اُس کی آنکھیں حوالہ دیتا ہوں

بات جب داستاں پہ ہوتی ہے

پیٹ اُس کا بھرے گا پھر کیسے

آنکھ جس کی جہاں پہ ہوتی ہے

وہ نشانہ خطا نہیں کرتا

چیز جو بھی نشاں پہ ہوتی ہے


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment