Wednesday, 9 September 2020

آپ سمجھے ہو غلط یار نہیں چاہئے تھی

آپ سمجھے ہو غلط یار نہیں چاہیے تھی
سایہ درکار تھا، دیوار نہیں چاہیے تھی
باپ کے بعد مِرے سر جو سجائی گئی ہے
با خدا مجھ کو یہ دستار نہیں چاہیے تھی
اتنی جلدی مِرے بالوں میں سفیدی آئی
زندگی! تیری یہ رفتار نہیں چاہیے تھی
فتح کرنا تھی اگر جنگ تو پھر ہاتھوں میں
پھول بہتر تھے یہ تلوار نہیں چاہیے تھی

عمار یاسر مگسی

No comments:

Post a Comment