آپ سمجھے ہو غلط یار نہیں چاہیے تھی
سایہ درکار تھا، دیوار نہیں چاہیے تھی
باپ کے بعد مِرے سر جو سجائی گئی ہے
با خدا مجھ کو یہ دستار نہیں چاہیے تھی
اتنی جلدی مِرے بالوں میں سفیدی آئی
فتح کرنا تھی اگر جنگ تو پھر ہاتھوں میں
پھول بہتر تھے یہ تلوار نہیں چاہیے تھی
عمار یاسر مگسی
No comments:
Post a Comment