Wednesday, 9 September 2020

آنکھ اشک بہانے پہ ہے مامور من العشق

آنکھ اشک بہانے پہ ہے مامور من العشق
اور ہونٹ ہیں چپ رہنے پہ مجبور من العشق
دامن پہ تِرے داغِ محبت نہیں اک بھی
لگتا ہے میاں تُو مجھے مقہور من العشق
چلتی ہے اٹھا کر تِری خوشبوئے بدن کو
میری تو ہر اک سانس ہے مزدور من العشق
مجہول ہے، مطعون ہے، ملعون ہے وہ شخص
جو ہجر سے گھبرا کے ہو مفرور من العشق
عمار کا ایمان ہے، چاہت کے جہاں میں
ہوتا ہے وہی، جو بھی ہو منظور من العشق

عمار یاسر مگسی

No comments:

Post a Comment