Thursday, 3 February 2022

خبر شاکی ہے تم مجھ کو نظر انداز کرتے ہو

 خبر شاکی ہے


خبر شاکی ہے تم مجھ کو

فقط قصہ سمجھ کر ہی نظر انداز کرتے ہو

کبھی سوچا ہے تم نے یہ کہ

اک چھوٹے سے قصے نے

خبر بننے کے پہلے کیا جتن جھیلے ستم کاٹے

کسی بے نام کوچے سے نکل کر سامنے آیا

سسکتے اونگھتے لوگوں کو چونکایا

بہت کچھ اور بھی کرتا ہوا قصہ خبر کا روپ لیتا ہے

مگر تم تو فقط قصہ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہو

سبب اس کا یہ ہے شاید

یہاں ہے موت بھی معمول میں شامل

کنوارے بے زباں جسموں پہ حملے روز ہوتے ہیں

ڈکیتی، قتل، اغوا، لوٹ اور آتش زنی

بہت کچھ ہوتا ہی رہتا ہے

نیا جیسے کہیں کچھ بھی نہیں

لیکن کبھی تم پر

اور ان پر بھی کہ جن پر سب گزرتا ہے

سبھی کچھ خاص تب ہو گا

کبھی تم پر بھی کچھ گزرے

خبر شاکی ہے تم مجھ کو

فقط قصہ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہو


بدر واسطی

No comments:

Post a Comment