رسمِ الفت وہ نبھا اپنا بنانے والے
مدتوں یاد کریں ہم کو زمانے والے
آج اخلاص و محبت بھی ہیں وقتی یارو
کم ہی ملتے ہیں یہاں ساتھ نبھانے والے
میری منزل کا پتہ کون بتائے مجھ کو
خود ہیں گمراہ یہاں راہ دکھانے والے
وہ جو محسن تھا پسِ مرگ بھی زندہ ہی رہا
خاک میں مل گئے احسان جتانے والے
اپنی دولت پہ گھمنڈ اتنا نہ کیجے حضرت
خالی ہاتھوں گئے دنیا سے خزانے والے
ان سے انصاف کی امید بھلا کیا رکھنا
جو ہیں مظلوموں کی جیبوں سے ہی کھانے والے
میں نے مولا کی عدالت میں دہائی جب دی
خو د بخود جل گئے گھر میرا جلانے والے
اک بھکاری ہوں تِرے در پے پڑا ہوں مولا
اب مِرا کام بنا کام بنانے والے
میں نے اخلاق بنائے ہیں ثمر جب سے یہاں
دوست بن بیٹھے مِرے مجھ کو مٹانے والے
ثمریاب ثمر
ثمر سہارنپوری
No comments:
Post a Comment