سوا نیزے کے سورج تلے
پیاس کی تپتی آنکھیں
جو تھرّی ریت کے بگولوں سے بلند ہوتی ہیں
تکتی ہیں چناب اور جہلم کی جانب
کئی سَسیاں کئی ماروِیاں
ننگے پاؤں میلوں تک
پانی کی تلاش میں بھٹکتی ہیں
اور لاہور کی فضا میں
کثیف دھواں اترنے لگتا ہے
بادل راستے میں سے ہی
عیار ہوائیں چُرا لیتی ہیں
اور مجھے شبہ ہوتا ہے
کہیں تھر کی تپتی آنکھوں نے
اپنی اُس زبان سے موسموں کو
کوئی بددعا تو نہیں دی تھی
جو قحط زدہ مور کے ساتھ
سُوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی
سبین علی
No comments:
Post a Comment