Tuesday, 22 March 2022

صبح کی سوجھ نہیں شام کا اندازہ نہیں

 صبح کی سوجھ نہیں شام کا اندازہ نہیں

ہم سے مزدوروں کو اس کام کا اندازہ نہیں

آپ نے دیکھا نہیں بھوک کا چہرہ شاید

اس لیے تلخئ ایام کا اندازہ نہیں

آپ مالک ہیں کہاں سمجھیں گے مزدور کا درد

آپ کو زیست کے آلام کا اندازہ نہیں

روشنی کتنی، کہاں، کیسے، بکھیری جائے

کیا ستاروں کو در و بام کا اندازہ نہیں

زیر دستوں سے ذرا سوچ کے بولا کیجے

آپ کو ناوکِ دشنام کا اندازہ نہیں

ہم تہی دست جو سورج سےالجھ بیٹھے ہیں

بھوک کا خوف ہے، انجام کا اندازہ نہیں

آپ کی چھت پہ اتر آئے پرندے ایسے

جن کو دیوارِ قفسِ دام کا اندازہ نہیں

وجہِ رُسوائی بنے یا کہ بنے وجہِ قرار

ہم کو اس چاہتِ بے نام کا اندازہ نہیں

ساقئ صبحِ طرب اتنی نوازش بھی نہ کر

سوختہ لب کو تِرے جام کا اندازہ نہیں


ثمریاب ثمر

ثمر سہارنپوری

No comments:

Post a Comment