صبح کی سوجھ نہیں شام کا اندازہ نہیں
ہم سے مزدوروں کو اس کام کا اندازہ نہیں
آپ نے دیکھا نہیں بھوک کا چہرہ شاید
اس لیے تلخئ ایام کا اندازہ نہیں
آپ مالک ہیں کہاں سمجھیں گے مزدور کا درد
آپ کو زیست کے آلام کا اندازہ نہیں
روشنی کتنی، کہاں، کیسے، بکھیری جائے
کیا ستاروں کو در و بام کا اندازہ نہیں
زیر دستوں سے ذرا سوچ کے بولا کیجے
آپ کو ناوکِ دشنام کا اندازہ نہیں
ہم تہی دست جو سورج سےالجھ بیٹھے ہیں
بھوک کا خوف ہے، انجام کا اندازہ نہیں
آپ کی چھت پہ اتر آئے پرندے ایسے
جن کو دیوارِ قفسِ دام کا اندازہ نہیں
وجہِ رُسوائی بنے یا کہ بنے وجہِ قرار
ہم کو اس چاہتِ بے نام کا اندازہ نہیں
ساقئ صبحِ طرب اتنی نوازش بھی نہ کر
سوختہ لب کو تِرے جام کا اندازہ نہیں
ثمریاب ثمر
ثمر سہارنپوری
No comments:
Post a Comment