Saturday, 24 July 2021

صدا جو دل سے نکلی ہو زباں پر لے ہی آتا ہوں

 صدا جو دل سے نکلی ہو زباں پر لے ہی آتا ہوں

سنو اے صاحبانِ علم و فن! میں کیا سناتا ہوں

ملی اجداد سے میرے یہی میراث ہے مجھ کو

میں اک مزدور کا بیٹا ہوں محنت کر کے کھاتا ہوں

شکم کی آگ کے آگے تپش سورج کی بے معنی

اسی کو سرد کرنے کو پسینے میں نہاتا ہوں

امیرِ شہر کے اطوار سے اب آ گیا عاجز

کہ وہ آنکھیں دِکھاتا ہے جو اُجرت لینے جاتا ہوں

مِرے بچے مجھے جب شام کو آتا ہوا دیکھیں

خوشی سے مسکراتے ہیں میں غم میں ڈوب جاتا ہوں

مِرے ان پھول سے چہروں کو بھی فاقے کی عادت ہے

میں اپنے پیٹ کے پتھر انہیں اکثر دکھاتا ہوں

بوقتِ شب یہاں جب بھوک سے یہ تِلملاتے ہیں

میں کنکر ڈال کر برتن میں پھر چُولہا جلاتا ہوں

عمر کوئی نہ آئے گا کمر پر لاد کر بوری

ذرا اب چین سے سوجا ثمؔر تم کو بتاتا ہوں


ثمریاب ثمر

ثمر سہارنپوری

No comments:

Post a Comment