Saturday, 24 July 2021

بند آنکھوں میں پگھلتی ہوئی اک نظم کے روگ

 بند آنکھوں میں پگھلتی ہوئی اک نظم کے روگ

اور مصرعوں میں چھپے درد ہمیں جانتے ہیں

یوں گلے ملتے ہیں بچھڑا ہوا جیسے مل جائے

تیرے کوچے میں پلے درد ہمیں جانتے ہیں

ہم سے شاہان محبت کا پتہ پوچھتے ہو

عشق آباد کے بے درد ہمیں جانتے ہیں

ایک میلہ سا لگا ہوتا ہے یار آخر شب

دل کی سرحد پہ کھڑے درد ہمیں جانتے ہیں

زرد رُت میں بھی انہیں ہم نے سنبھالے رکھا

تِرے ہاتھوں سے ملے درد ہمیں جانتے ہیں

ہم نے دیکھے ہیں سزا کاٹ کے جیتے ہوئے دن

اس حوالے سے تو یہ درد ہمیں جانتے ہیں


آئلہ طاہر

No comments:

Post a Comment