الجھی ہوئی حیات سے اکتا رہی ہوں میں
کیسا مقامِ فکر ہے گھبرا رہی ہوں میں
آخر کوئی گھسیٹے کہاں تک وجود کو
کیوں اپنے آپ پر یہ ستم ڈھا رہی ہوں میں
لہجوں کی مار، روز کے جھگڑے، وضاحتیں
جانے یہ کب سے گُتھیاں سُلجھا رہی ہوں میں
آلامِ روزگار نے یوں خاک کر دیا
ہر روز خود کو تھوڑا سا دفنا رہی ہوں میں
تھاما کسی نے ہاتھ تو آنکھیں چمک اٹھیں
اشکوں کو روکتی ہوں تو لہرا رہی ہوں میں
دل کو وہ اک سکونِ محبت جو ہے سحر
ماضی کی ایک یاد پہ اِترا رہی ہوں میں
تابندہ سحر عابدی
No comments:
Post a Comment