کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے
کاہے کو بیاہی بدیس
بھئیا کو دیۓ محل دو محلے ہم کو دیا پردیس
کاہے کو بیاہی بدیس، رے بابل
کاہے کو بیاہی بدیس
ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گئیاں
ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں
گھر گھر مانگی جائیں
ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں
بھور بھئے اڑ جائیں
ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں
چھوٹا سہیلی کا ساتھ
کوٹھے تلے سے پالکی نکلی
بیرن نے کھاۓ پشاد
ڈولی کا پردہ اٹھا کر جو دیکھا
آیا پیا کا دیس
کاہے کو بیاہی بدیس، رے بابل
کاہے کو بیاہی بدیس
امیر خسرو
No comments:
Post a Comment