Monday, 5 December 2016

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے
کاہے کو بیاہی بدیس
بھئیا کو دیۓ محل دو محلے ہم کو دیا پردیس
کاہے کو بیاہی بدیس، رے بابل
کاہے کو بیاہی بدیس
ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گئیاں
جد ہانکے، ہنک جائیں
ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں
گھر گھر مانگی جائیں
ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں
بھور بھئے اڑ جائیں
ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں
چھوٹا سہیلی کا ساتھ
کوٹھے تلے سے پالکی نکلی
بیرن نے کھاۓ پشاد
ڈولی کا پردہ اٹھا کر جو دیکھا
آیا پیا کا دیس
کاہے کو بیاہی بدیس، رے بابل
کاہے کو بیاہی بدیس

امیر خسرو

No comments:

Post a Comment