Sunday, 4 October 2020

اس کی باتیں تو پھول ہوں جیسے‬

 اس کی باتیں تو پھول ہوں جیسے‬

‫باقی باتیں ببول ہوں جیسے

‫چھوٹی چھوٹی سی اس کی وہ آنکھیں‬

‫دو چنبیلی کے پھول ہوں جیسے‬

اس کا ہنس کر نظر جھکا لینا‬

‫ساری شرطیں قبول ہوں جیسے‬

کتنی دلکش ہے اس کی خاموشی‬

‫ساری باتیں فضول ہوں جیسے‬


معراج فیض آبادی

No comments:

Post a Comment