Sunday, 4 October 2020

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں

 اجنبی شہر کی اجنبی شام میں

زندگی ڈھل گئی ملگجی شام میں

شام آنکھوں میں اتری اسی شام کو

زندگی سے گئی زندگی شام میں

درد کی لہر میں زندگی بہہ گئی

عمر یوں کٹ گئی ہجر کی شام میں

عشق پر آفریں جو سلامت رہا

اس بکھرتی ہوئی سرمئی شام میں

میری پلکوں کی چلمن پر جو خواب تھے

وہ تو سب جل گئے اس بجھی شام میں

ہر طرف اشک اور سسکیاں ہجر کی

درد ہی درد ہے ہر گھڑی شام میں

آخری بار آیا تھا ملنے کوئی

ہجر مجھ کو ملا وصل کی شام میں

رات شاہین آنکھوں میں کٹنے لگی

اس طرح گم ہوئی روشنی شام میں


نجمہ شاہین کھوسہ

No comments:

Post a Comment