میری آنکھوں میں خواب رہنے دو
مستقل یہ عذاب رہنے دو
جی بہلتا نہیں حقیقت سے
میرے آگے سراب رہنے دو
اس کے چہرے سے اشک نہ پونچھو
چاند کو زیرِآب رہنے دو
ہم نئی حسرتیں شمار کریں
تم پرانا حساب رہنے دو
ظرف کانٹوں کا دیکھ لوں مالی
پھول کو پرشباب رہنے دو
آج پڑھ لو ذرا مری آنکھیں
تم کھلی ہر کتاب رہنے دو
اشک پینا اگر ثواب ہے تو
ناصحا! یہ ثواب رہنے دو
روز ہم دل کا خون پیتے ہیں
ساقیا! تم شراب رہنے دو
شوق سے چھین لو مجھے، مجھ سے
تم مِرا اضطراب رہنے دو
شیخ کا امتحان ہو جائے
حسن کو بے نقاب رہنے دو
اب کوئی تم دعا نہ دو عابد
ہم کو خانہ خراب رہنے دو
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment