Sunday, 4 October 2020

میری آنکھوں میں خواب رہنے دو

 میری آنکھوں میں خواب رہنے دو

مستقل یہ عذاب رہنے دو

جی بہلتا نہیں حقیقت سے

میرے آگے سراب رہنے دو

اس کے چہرے سے اشک نہ پونچھو

چاند کو زیرِآب رہنے دو

ہم نئی حسرتیں شمار کریں

تم پرانا حساب رہنے دو

ظرف کانٹوں کا دیکھ لوں مالی

پھول کو پرشباب رہنے دو

آج پڑھ لو ذرا مری آنکھیں

تم کھلی ہر کتاب رہنے دو

اشک پینا اگر ثواب ہے تو

ناصحا! یہ ثواب رہنے دو

روز ہم دل کا خون پیتے ہیں

ساقیا! تم شراب رہنے دو

شوق سے چھین لو مجھے، مجھ سے

تم مِرا اضطراب رہنے دو

شیخ کا امتحان ہو جائے

حسن کو بے نقاب رہنے دو

اب کوئی تم دعا نہ دو عابد

ہم کو خانہ خراب رہنے دو


عابد بنوی

No comments:

Post a Comment